IT WORLD
For Full Access Please Log In First or Register


24 Hours 7 Days, Its all about Information Technology, Pakistan's First Free Online Institute
 
HomePortalFAQNew MessegesRegisterLog in
Search
 
 

Display results as :
 
Rechercher Advanced Search
Log in
Username:
Password:
Log in automatically: 
:: I forgot my password
Like Our Facebook Page
Asif Nisar Rao

Create Your Badge ---------- Asif Nisar Rao

Promote Your Page Too
Calender
Latest topics
» آہنی پردے کے پیچھے - ماسکو کا سفرنامہ
Sat Jun 15, 2013 2:19 pm by Abid Nisar Rao

» New Cover Of Our Forum
Sat May 25, 2013 6:23 pm by Asif Nisar

» Islamic Qouate
Fri May 24, 2013 2:15 pm by Asif Nisar

» WESTAR WATCH
Fri May 24, 2013 2:11 pm by Asif Nisar

» Samar Qand Garmi Ka Toor
Fri May 24, 2013 2:10 pm by Asif Nisar

» Royal Fans Ads
Fri May 24, 2013 2:08 pm by Asif Nisar

» MPC ADS
Fri May 24, 2013 2:05 pm by Asif Nisar

» Urdu Likhny Ka Best Tareka
Wed May 22, 2013 6:00 pm by Asif Nisar

» Install Windows XP Step By Step
Wed May 22, 2013 5:54 pm by Asif Nisar

Poll
App Ko Passand Aya ?
Haan
100%
 100% [ 2 ]
Nahi
0%
 0% [ 0 ]
Total Votes : 2
Most active topics
Mah - E - Rajab
Install Windows XP Step By Step
Welcome
Adobe Photoshop Online Training
Noor phela hoa Ajj ki raat hai.
Bad Sectors Removing Software
Agr app google main kisi b information ko asani k sath dakhna cahin
Computer Courses With Images
New Year Celibration
آہنی پردے کے پیچھے - ماسکو کا سفرنامہ
Top posting users this week
Who is online?
In total there is 1 user online :: 0 Registered, 0 Hidden and 1 Guest

None

Most users ever online was 16 on Sat Apr 07, 2018 11:53 pm
Statistics
We have 32 registered users
The newest registered user is mariagohar

Our users have posted a total of 169 messages in 122 subjects
Live Traffic
Flag Counter
View My Stat
View My Stats

Share | 
 

 تعلیم اور سکولوں کی اہمیت

Go down 
AuthorMessage
Asif Nisar
Founder
Founder
avatar

Posts : 159
Join date : 2012-06-07
Age : 26
Location : Lahore (54000), Punjab, Pakistan

PostSubject: تعلیم اور سکولوں کی اہمیت   Tue Jun 12, 2012 10:49 am


تعلیم اور سکولوں کی اہمیت

افسوس ناک خبر ہے کی کہ دہشت گردوں کے ہاتھون ، لنڈی کوتل کے علاقے ذخہ خیل میں گرلزپرائمری اور بوائز پرائمری سکول کے احاطے میں نصب بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں دونوں سکولوں کی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ (ڈیلی پاکستان) و (ڈیلی ڈان)
ایک انسان اس وقت تک اپنے معراج کو نہین چھو پاتا جب تک وہ تعلیم یافتہ نہ ہو۔ اور تعلیم زندگی کیلئے تیاری نہ ہے بلکہ بذات خود ذندگی ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے ہر مہذّب معاشرہ کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ 21صدی مین تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی مین تعلیم سب سے زیادہ اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے ۔ تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچانے اور ان کی بہترسے بہتر تربیت کرنے میں معاون ثابت و مدد گار ہوتی ہے تقیناً تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانی میں تعلیم کا کردار بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں عروج حاصل کیا، باقی دنیااس قوم کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔ قران کا پہلا لفظ ہی اقرا تھا۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوا ،غلامی نے اپنا گیراتنگ کر دیا۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف علم و آگہی کی بدولت حاصل ہے۔ دین و دنیا کی تمام تر ترقیاں اور بلندیاں علم ہی کے دم سے ہیں۔ اس لئے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔علم حاصل کرنے کے لئے پیدائش سے لحد تک وقت کی کوئی قید نہیں۔ صرف عزم و ہمت اور جہد مسلسل کامیابی و کامرانی کا واحد راستہ ہے۔
طالبان نے ستمبر ۲۰۱۰ تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہین۔ طالبان درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں ، بچیوں اور اساتذہ کو بھی نہین بخشا۔ طالبان کے مذید حملوں کے خوف کی وجہ سے صوبہ ک پ کے ۲۰۵ پرائمری سکول بند کر دئیے گئے جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ مین ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر صرف ۴۰،۰۰۰رہ گئین۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔طالبان نے سوات مین سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۰۹ مین انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مین خود کش حملہ کیا جس مین ۶ افراد بشمول ۳ طالبات ہلاک ہو گئین۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۱۰ مین سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کو قتل کر دیا اور سوات طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ تحریک طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی، پشاور کے وائس چالسلر کو ستمبر ۲۰۱۰ مین اغوا کر لیا اور وہ ابھی تک طالبان کی قید میں ہین۔ طالبان نے ۱۹ جنوری 2011 کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر دہماکہ کیا جس سے دو افراد ہلاک اور ۱۵ بچے زخمی ہو گئے۔۔ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقہ کنڈاؤ خیل میں شدت پسندوںنے ۲۴ جنوری 2011 گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیزمواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ایجنسی بھر میں تباہہونیوالے سکولوں میں اب تک33 درسگاہیں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔سکولوں اور دیگر سرکاری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری مقامی طالبان وقتاً فوقتاً قبول کرتے رہے ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اِن حملوں میں کم سے کم ایک سو سے زیادہ سکول، بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کو تباہ کیا جاچکا ہے۔ طالبان نے ستمبر ۲۰۱۱پشاور کے علاقہ متنی میں دہشت گردوں کی سکول وین پر فائرنگ کر دی جس سے ڈرائیوراور پانچ بچے جاں بحق جبکہ دو اساتذہ اور راہگیر سمیت گیارہ سے زائد بچے زخمی ہوگئے،پانچ بچوں کی حالت تشویشناک ہونے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔خیبر ماڈل سکول کی سکول وین بچوں کو چھٹی کے بعد گھر واپس لا رہی تھی کہ تھانہ متنی کے علاقہ بائی پاس کے قریب پہلے سے گھات لگائے بیٹھے سفاک نامعلوم دہشت گردوں نے وین پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چار بچے اور وین کاڈرائیور جاں بحق جبکہ دواساتذہ اور راہ گیرسمیت گیارہ بچے زخمی ہوگئے۔طالبان نے اس واقع کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔
ان دھماکوں کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کےحصول سے محروم ہوچکے ہیں۔ پتہ نہیں ان طالبان وحشی درندوں کو تعلیم اور تعلیمی اداروں سے اس قدر چڑ کیوں ہے اور طالبان پاکستانی مسلمانون کو کیوں زیور تعلیم سے بے بہر ہ رکھنا چایتے ہین؟ کیا ان اجڈوں کو مسلمانوں کی بہبود کا کوئی خیال ہے؟
لگتا ہے کہ یہ طالبان کے ان حمائتیوں کے کرتوت بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے مدرسے چلارہے ہین اور جن کو دوسرے ملکوں سے ان مدرسون کو چلانے کے لئے پیسہ مل رہا ہے۔ کیونکہ سرکاری سکولوں کی عدم موجودگی مین لوگ اپنے بچون کو مدرسوں مین ہی بھیجیں گے۔ اور جتنے زیادہ بچے ہونگے،اتنا زیادہ پیسہ باہر سے آئے گ اور ملے گاا۔
دولتِ علم سے بہرہ مند ہونا ہر مرد و زن کے لئے لازمی ہے۔ ترقی صرف اس قوم کی میراث ہے جس کے افراد زیورِ علم سے آراستہ و پیراستہ ہوں۔ علم کے بغیر انسان خدا کو بھی پہنچاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ کسی بھی عمل کے لئے علم ضروری ہے کیونکہ جب علم نہ ہوگا تو اس پر عمل کیسے ہوسکے گا۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی حصول علم لازمی ہے۔ اسلام نے مردو عورت دونوں کے حصول، علم کی تاکید کی ہے۔ علم ایک ایسا بہتا دریا ہے جس سے جو جتنا چاہے سیراب ہوسکتا ہے اور اس دریا کے پانی مین کوءی کمی واقع نہین ہوتی۔۔ کامیابی محنت اور لگن مین پنہان ہے۔ زندگی کی اقدار میں نکھار و وقار صرف علم سے ہی آسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت و مرد دونوں کی اہمیت یکساں ہے۔ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھنے کے لئے عورتوں کے لئے بھی علم اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کے لئے ہے۔ گویا عورت اور مرد ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں جن میں سے ایک کی بھی علم سے لاتعلقی کائنات کے نظام کو درہم برہم کرسکتی ہے۔
قرآن دنیا کی سچی اور قابلِ عمل کتاب ہے جس کے احکامات انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں ۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی صلعم کو کہا گیا :
”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم. (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵) یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔(المجادلہ:۱۱) دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے: (اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(الزمر:۹) تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)(الرعد:۱۶) (اے پیغمبر کہو:اے میرے رب !میرا علم زیادہ کر۔)(طٰہٰ:۱۱۴) اور تجھ کوسکھائیں وہ باتیں جو نہیں جانتا تھااور یہ تیرے رب کا فضل عظیم ہے۔(النساء:۱۱۳) لوگ جانتے ہین کہ حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن، دونوں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر TTPکےسکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک کئے جانے کو اور کرنل امام کے قتل کو اس بیعت اور اپنے جاری شدہ code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہین کر رہے۔ طالبان جو تعلیم کے یکسر مخالف ہیں، اور سکولوں کو جلانے کے قبیح کاموں میں شریک ہین ،ان کے بارےمیں مجھے پورا اندازہ ہے کہ وہ اگلے 100 سال بعد بھی ترقی کی شاہراہ پر وہیں پڑےہوں گے جہاں آج سے 200 سال پہلے پڑے تھے۔
تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پاکستان مین غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے مسائلمزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ* سے ہم پاکستان مین دہشتگردی و انتہا پسندی کی عفریت پر قابو پا سکتےہین اور لوگ اس بات کو درست طور پرسمجھ سکین گے کہ خرابی دین اسلام میں نہیں بلکہ اسلام کی اس غیر معقول اور تنگ نظر طالبانی تشریح میں ہے جس کا علاج، بہتر تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اسی مین پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر ہے۔

____________________________________________________________


Back to top Go down
http://www.itworld.forumotion.co.uk
 
تعلیم اور سکولوں کی اہمیت
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
IT WORLD :: General Category :: Articles-
Jump to: